نئی دہلی،28؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)مغربی بنگال میں بیوروکریسی کیسے اپنا کھیل کھیلتی ہے پولیس بھرتی میں حجاب پر پابندی اس کی ایک مثال ہے-کم از کم ایک ہزار مسلم امیدوار لڑکیاں اس سے متاثر ہوئی ہیں جو پولیس میں بھرتی ہونا چاہتی تھیں،ان کی درخواست اس لیے مسترد کردی گئی کیونکہ انہوں نے فارم پر اپنی باحجاب تصویر لگائی تھی جس میں چہرہ سوفیصد کھلا ہوا تھا -اب وہ یہ معاملہ لے کر کلکتہ ہائی کورٹ پہنچی ہیں جہاں اس رٹ کی سماعت ہوئی-فوری طور پر عدالت نے کہا کہ بھرتی کے عمل میں مسلم لڑکیوں کی پٹیشن کے فیصلہ کی تعمیل کرنی ہوگی-لائیولا ء نے جسٹس ارندرم کے حوالہ سے کہا کہ یہ واضح کیا جاتا ہے کہ جہاں تک درخواست گزار کا معاملہ ہے بھرتی کا عمل اس رٹ کے فیصلے کے زیر نگیں ہوگا،موصوف جج نے کہا کہ رٹ دائرکرنے والے نے اپنے مذہبی فرض کے طور پر حجاب کے ساتھ متعلق تصویر استعمال کی جس پر اس کا فارم مسترد کر دیا گیا ہے،باوجود اس کے کہ تصویر میں چہرہ مطلوبہ شناخت کیلئے بالکل واضح ہے-واضح رہے کہ پولیس بھرتی کیلئے 30ہزار امیدواروں کے ایڈمٹ کارڈ منسوخ کرنے کے ساتھ مغربی بنگال پولیس بھرتی بورڈ نے اس سال 26ستمبر کو ابتدائی امتحان لیا تھا -جن مسلم لڑکیوں نے باحجاب تصویر لگائی تھی ان کی تعدادتقریباًایک ہزار ہے- خواتین کے ایک گروپ نے بھرتی بورڈ کے فیصلہ کو چیلنج کیا جس کو سماعت کیلئے منظور کرلیا گیا -پہلی سماعت کے دوران جج موصوف نے یہ ریمارک دیے،اگلی سماعت 6جنوری 22 کو ہوگی -سوال یہ بھی کیا جارہا ہے کہ سکھوں کی پگڑی کو قبول کرلیا جاتا ہے تو حجاب کیوں نہیں؟یہ بھی مذہبی پریکٹس کا حصہ ہے -اس معاملہ میں بنگال کی چھوٹی بڑی مسلم پارٹیاں ایک ساتھ آگئی ہیں جنھوں نے مشترکہ میمورنڈم متعلقہ حکام کو دیا ہے -ان میں ایس آئی او،ویلفیئر پارٹی،ایس ڈی پی آئی،ایف ایم،پی ایف آئی،اے آئی ایم ائی ایم وغیرہ شامل ہیں -